کمٹہ25؍نومبر(ایس اؤ نیوز)ہم مسلمانوں کو شکایت ہے کہ ہم پر ظلم ہورہاہے، ہمارے حقو ق دبائے جارہے ہیں، ہمیں پیساجارہاہے،لیکن ذراسنجیدگی سے غور کیجئے کہ مجرم کون ہے؟ کیا ہم نے کبھی اپنے پڑوسیوں کو اپنے دین کے بارے میں بتایا ؟ ہمارا کاروباران کے ساتھ ہے ،آفیس میں ان کے ساتھ رہتے ہیں، محلے میں ملنا جلنا ہوتاہے،اسکول، کالج وغیرہ میں برادران وطن کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن کبھی ہم نے اسلام کا پیغام ان تک پہنچایا ؟ ہم نے اگر اُن تک اسلام کا پیغام ہی نہیں پہنچایا، انہیں اسلام کی دعوت ہی نہیں دی، دینی تعلیمات سے آگاہ ہی نہیں کرایا تو انہیں دین کے بارے میں اور مسلمانوں کے بارے میں کیسے معلوم ہوگا انہیں کیسے پتہ چلے گا کہ قران صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ تمام انسانیت کی ہدایت کے لئے اترا ہے. یہ بات امام وخطیب جامع مسجد بھٹکل و استاذ حدیث جامعہ اسلامیہ بھٹکل حضرت مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے بتائی ، وہ کمٹہ میں جماعت المسلمین کمٹہ و مسلم اسوسی ایشن کمٹہ کے زیر اہتمام منعقدہ سیرت النبی ﷺ کے جلسےمیں بحیثیت مہمان خصوصی عوام سے مخاطب تھے۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے مولانا کے خطاب کے کچھ خاص نکات یہاں پیش کئے جارہے ہیں:
مولانا محترم نے اپنے خطاب کی شروعات میں نظمیں، نعتیں، تقریریں اور مکالمے پیش کرنے والے بچوں کی ستائش کی اور کہاکہ دل یقین سے معمور ہے کہ دنیا میں اسلام دشمن طاقتیں جتنی چاہے کوششیں کرلے ،وہ اسلام کو مٹا نہیں سکتے۔ جتنا اسلام کو دبایا جائے گا یہ اتنا ہی ابھرے گا یہ اللہ کا وعدہ ہے جس کو اللہ نے قرآن میں بیان کیاہے۔ اسلام مٹنے کے لئے نہیں بلکہ دنیا میں اپنا مقام اور سرخروئی حاصل کرنے کےلئے آیاہے۔دین کا کام اللہ کا ہے وہ کام مکمل ضرور ہوگا چاہے وہ کفر کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے کام کے لئے منتخب کرتاہے۔ اللہ بے نیاز ہے،اس کو کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ دین کی اشاعت کے لئے قبول کرتاہے ،وہ خوش نصیب ہیں۔ دنیا نےدیکھا ہے کہ نبیوں کی اولاد نے نبیوں کے پیغام کو قبول نہیں کیاتو اللہ نے انہیں نیست و نابود کردیا۔ نوح علیہ السلام کے حوالے سے کہاکہ وہ چاہے نبی کا بیٹا ہو یا بیوی ہو، کسی کی رعایت نہیں کی۔ سب کو عذاب میں مبتلا کیا۔ نبی کے سامنے ان کا بیٹا غرق ہوگیا ،اللہ بتانا چاہتے تھے کہ میں بے نیاز ہوں۔ مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے ،جو بھی نافرمان ہے اس کو اللہ تعالیٰ زمین میں جینےکا حق نہیں دے گا۔ قرآن نے کہا ہے کہ اگر تم دین کا کام نہیں کروگے ، تم دین کی فکر نہیں کروگے ، تم دین کے لئے قربانی نہیں دوگے ،یاد رکھئے اللہ تعالیٰ تمہیں پیچھے کردے گا اور تمہاری جگہ دوسری قوم کو آگے لےآئے گا۔
’ہم مسلمان ، ہمیں شکایت ہے ہم پر ظلم ہورہاہے، ہمارے حقو ق دبائے جارہے ہیں، ہمیں پیساجارہاہے،لیکن ذراسنجیدگی سے غور کیجئے کہ مجرم کون ہے ؟ مجرم کون ہیں؟ ۔ہم نے کبھی اپنے پڑوسیوں کو اپنے دین کے بارے بتایا ۔؟ نہیں بتایا۔ ہمارا کاروبار ان کے ساتھ ہے ،آفیس میں ان کے ساتھ رہتے ہیں، محلے میں ملنا جلنا ہوتاہے،اسکول، کالج وغیرہ میں برادران وطن کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن کبھی ہم نے اپنا یہ پیغام ان تک پہنچایا ہے ؟ نہیں پہنچایا۔ربیع الاول کے مہینے میں سیرت ﷺ کے خوب تذکرے ہوتے ہیں، جو ہم کہتے ہیں اس سے ہزار گنا بڑھ کر ہیں، لیکن کہاں تھے کتابوں میں ہی تھے۔ اللہ کے نبی ﷺ کا تذکرہ کتابوں کے اندر ہی رہا، یا ربیع الاول کی تقریروں تک ہی رہا۔ آپ اپنے دل سے ذرا پوچھئے، کیا کبھی ہم نے اللہ کے نبی ﷺ کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا،سوچنے ،غورکرنے کی ضرورت ہے۔
ہم آخری پیغمبر کے امتی ہیں، ہمیں فخر بھی ہے ،ہمارا دعویٰ بھی ہے، جلسے بھی کرتے ہیں،لیکن کیا اپنی زندگی میں اپنے محبوب ﷺ کی تعلیم پر عمل کرنے ، ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں؟ ہر ایک غور کرے۔ شکایت سے مسائل حل نہیں ہوتے؟ تقریروں سے سیرت ﷺ کی تعلیمات عام نہیں ہونگی ،بلکہ ہم خودکو اس کا نمونہ بنائیں تو عام ہونگی۔اگر ہم نے یہ کام نہیں کیا تو اللہ کسی اور کو لے آئے گا۔ جو پشتینی ،نسلی مسلمان ہیں ان سے کیا دین کی خدمت ہورہی ہے، اس کے برعکس ہمارے سامنے ساری دنیا میں نومسلموں کے ذریعے دین کا بہت سارا کام ہورہاہے۔ دنیا میں سب سے تیزی سے جو دین پھیل رہاہے وہ اسلام پھیل رہاہے۔ اس کے لئے سب سے زیادہ کوشش وہ لوگ کررہے ہیں جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ یہ دین کیا ہے، اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت کی قیمت کیا ہے۔ ایک بچے کو پشتینی دولت ملتی ہے تو اس کی قدر نہیں کرتا ، اس کو عیاشی میں اڑا دیتا ہے۔ اس کے بدلے جو شخص محنت سے کچھ کماتا ہے ، اس کا ایک روپیہ بھی ضائع ہوجاتاہے تو دکھ ہوتاہے، کیوں کہ اس کو اس کی قیمت معلوم ہے کہ اس نے ایک ایک پیسہ خون پسینہ ایک کرکے کمایاہے۔ اسی سے سمجھ لیجئے کہ نئے نئے مسلمان ہورہے ہیں انہیں معلوم ہے ، اس لئے کہ انہوں نے کفر کے ماحول میں ، شرک کے ماحول میں ، الحادکے ماحول میں ، لادینیت کے ماحول میں آنکھیں کھولی ہیں، تاریکی میں ، جہالت میں ، پریشانی میں آ نکھیں کھولی ہیں پھر اسلام جیسی نعمت انہیں ملی ہے، اللہ کے رسول ﷺ جیسی نمونے والی شخصیت ملی ،تو پھر ان کو ایسا لگا کہ دنیا کی ساری دولت ملی،اس لئے ان کے اندر خود اعتماد ی ہے، ان کے اندر جذبہ ہے، تڑپ ہے، لگن ہے، اسلام پر مر مٹنے کا وہ جذبہ ہے جو ان سے وہ کام کروارہاہےجو آ ج کی دنیا اس کا مشاہدہ کررہی ہے۔ ہم اس ملک میں رہتے ہیں، ہمارا اپنا گھرانہ دین دار ہو، ہزاروں روپئے اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتےہیں، بچپن سے لےکر جوانی تک ان کی تعلیم وتربیت غیروں کی گود میں ہوتی ہے پھر جب وہ بڑے ہوجاتےہیں تو دین کی محبت کہاں ان کے اندر رہے گی، کہاں دین پر مرمٹنے کا جذبہ کہاں پیدا ہوگا۔کیسے وہ سمجھیں گے کہ دین پر چلنے میں ہی کامیابی ہے، حالانکہ انہیں بچپن سے یہی تعلیم دی جاتی رہی ہےکہ پیسہ میں کامیابی ہے۔ جب ایسی تعلیم حاصل کرے گا تو کیا اس کو دین پر ترقی کرنے کا یقین ہوسکتاہے؟آج لوگوں کو شکایت ہے ، دور نہ جائیں اپنے ملک کا جائزہ لیں، آج جگہ جگہ سے جو اسلام کےخلاف آواز اٹھ رہی ہیں، کورٹ میں شکایت داخل کررہےہیں ،ان میں اکثریت وہ ہے جو نام کےمسلمان ہیں، زیادہ تر انہی کی طرف سے اسلام کی مخالفت ہورہی ہے۔کیا کبھی ہم نے غور کیا ،کیا وجہ ہے اس کی ؟ اس کی وجہ یہی ہے کبھی انہیں دینی ماحول میں رہنے ، دینی تعلیم کوصحیح طورپر سمجھنے کا موقع نہیں ملا، اللہ کے نبی ﷺ کی سیرت کو پڑھنے سمجھنے کا موقع نہیں ملا۔ جن کو اللہ کے رسولﷺ کی سیرت کاپڑھنے کا موقع ملتا ہے ان کے خیالات ہی بدل جاتے ہیں چاہے وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، جب وہ اللہ کے نبیﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرتےہیں تو ان کی زندگی میں انقلاب آجاتاہے۔رسولﷺ کی سیرت میں زندگی کے تمام شعبہ جات کا مکمل نمونہ ہے۔ہم ریبع الاول کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں ،نبیؐ کی محبت کا دعویٰ بھی کرتےہیں،جب ہم سے ، اپنے بیٹوں سے ، اپنی بہنوں سے کہا جاتاہے کہ وہ سنت رسول ﷺ پر عمل کریں تو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ توپھر کونسی محبت ہے یہ۔اللہ کے نبیؐ کی زندگی ہمارے لئے ایک نمونہ ہے یہ صرف ایک زبانی دعویٰ ہے یقین نہیں ہے۔ جب تک یقین ہمارے دل کے اندرنہیں آئے گا ہمارا یقین مکمل نہیں ہوگا۔ جلسوں سے زیادہ ہمیں اپنی زندگیوں کو بنانے کی ضرورت ہے۔جلسے کے لئے ، بچوں کی تیاری میں جو کچھ خرچ کیا گیا یہ ایمان کی دلیل ہے۔ اس سے بڑھ کر دلیل کیا ہوگی کہ ہم کچھ اپنا وقت نکال کر سیرت ؐ کا مطالعہ کریں۔ ہر مرد و عورت سیرت ﷺکا مطالعہ ضروری کریں تاکہ اپنی زندگی میں اس کا عملی نمونہ بنیں۔سیرت ؐ کے مطالعے کے وقت دوسری شخصیات سے موازنہ کرکے دیکھیں کہ ہمارے نبی ؐکی زندگی کیسا نمونہ ہے۔اگر ہم ایسا مطالعہ کریں گے تو اللہ کے نبی ﷺ کی محبت پہلے سے زیادہ بڑھ جائے گی۔
اپنے غیر مسلم بھائیوں کے سامنے سیرت ﷺ کا تذکرہ کریں، آپؐ کی سنتوں کا تذکرہ کریں۔ جب وہ اللہ کےنبی ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں اور مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو اوپر نیچے کا فرق معلوم ہوتاہے ان کو ۔آ ج لوگ بد ظن ہورہیں ، دشمن ہورہےہیں تو اس کاایک بڑا سبب ہم بھی ہیں،ہماری بداعمالیاں دیکھتے ہیں،وہ ہم کو دیکھ کر اسلام کو سمجھنے کی کوشش کرتےہیں، ان کے ذہن میں اسلام کا تصور خراب ہوجاتاہے۔مسلمان دنیا کو اچھائی،سچائی ، امانت داری بتانے آئے تھے۔ جب کہ آج دنیا ہمارے عمل دیکھ کر کیا کیا کہہ رہی ہےافسوس ہوتاہے۔ سیرت ﷺ نمونہ بنانے کے لئے آئی ہے ضرورت ہے کہ ہم اپنی زندگی کو عملی نمونہ بنائیں۔
بچے اللہ کی بہت بڑی نعمت، امانت ہیں، ان کے دلوں میں اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ کی محبت پید ا کریں۔اگر ہم نے یہ نہیں کیا تو یہ بچے بڑے ہونے کے بعد ہمارے نہیں رہیں گے،یہ ہمارے بھی دشمن ہوجائیں گے ، سماج کے بھی دشمن ہوجائیں گے، اسلام کے بھی دشمن ہوجائیں گے،کیونکہ انہیں جو تعلیم دی جارہی ہے کفر والحاد کی تعلیم، مذہب کے خلاف بغاوت کی اور دنیا کے پیچھے پڑنے کی تعلیم دی جاتی ہے ،اگر اس کے ساتھ ہم نے وہ زہر جوانہیں دیا جارہاہے اس کا تریاق نہیں کیا تو پھر وہ کہاں زندہ رہیں گے ۔ کفر و الحاد ،لادینیت مذہب کے خلاف بغاوت کی تعلیم پانے والے بچے کیا وہ مسلمان رہیں گے۔کیاوہ اسلام اور ملت کے لئے کچھ کام کریں گے، یہ خام خیالی ہے۔ آج ہم ایسی تعلیم کا رزلٹ دیکھ رہےہیں کورٹ میں اسلام کے خلاف شکایت کرنے والے مسلمان ۔ مسلمانوں کے خلاف ڈبیٹ میں بولنےوالے بھی مسلمان۔ مسلم پرسنل لاء کے خلاف بولنے والے بھی مسلمان۔ حجاب،برقعہ کے خلاف بولنے والے بھی مسلمان۔ یہ کیوں ہوا؟ یہ اسی تعلیمی زہر کا اثر ہے ،جوانہیں اسکول میں پلایا گیا تھامگر اس کا تریاق نہیں کیاگیا۔تریاق یہی ہے کہ گھروں میں دینی تعلیم کاانتظام کریں، شبینہ مکتب بھیجیں، اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ اپنے گھر میں ایک نہ ایک حافظ قرآن ، عالم دین بنائیں۔ یہ فرض ہے ہمارا۔ اکثر جگہ یہی ہوتاہے کہ مدرسہ میں ڈالیں گے تو فیو چر کیا ہوگا؟ اسی کا نتیجہ ہے۔ کتنے بڑے بڑے ڈگری ہولڈر ہیں ،جن کے پا س کچھ بھی نہیں ہیں، کتنی کی بڑی بڑی کمپنیاں ہیں انگوٹھا چھاپ ہیں، ان کے پی اے انہیں بتاتا ہے کہ دستخط کہاں کرنی ہے۔ رزق کا مسئلہ اللہ کے حوالے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والاہے۔رزق بڑی بڑی ڈگریوں میں، یونیورسٹیوں کے پڑھنے میں نہیں ہے،رزق اللہ تعالیٰ ہر کسی کو دیتاہے، بڑے بڑے گریجویٹ بھی غریب ہیں۔ یہ دنیا میں ہم سب دیکھتے ہیں۔ آج بھی صحابہ ؓ کا نام باقی ہے جب کہ اس زمانے کے بڑے بڑے دولت مندوں کو کوئی نہیں جانتاہے، کیونکہ صحابہؓ نے دین کےلئے اپنے آپ کو قربان کیا۔ کئی اولیا ء کے نام باقی ہیں جب کہ ان کے زمانےکے راجہ ، بادشاہ کے نام کوئی نہیں جانتا۔ اس لئے کہ انہوں نے دین کے لئے قربانیاں دی۔ ہمیں اپنی آخرت کی فکر بھی کرنی ہے کہیں یہ بچے آخرت میں ہمارے خلاف گواہی نہ دیں کہ انہوں نے ہماری تعلیم کے لئے سب کچھ کیا لیکن دینی تعلیم کا انتظام نہیں کیا۔ تعلیم دیں ،لاکھوں روپئے خرچ کریں ساتھ ساتھ ان کے لئے دینی تعلیم کا انتظام کرنا والدین و سرپرستوں کا اہم و ضروری فرض ہے۔